چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور الیکشن عملے کو دھمکانے کے کیس کی سماعت کی۔
الیکشن کمیشن نے گزشتہ سماعت پر سہیل آفریدی کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا جس پر آج وزیر اعلی سہیل آفریدی الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوگئے جب کہ ان کے وکیل علی بخاری بھی ہمراہ تھے۔ دوران سماعت وکیل علی بخاری نے کہا کہ این اے 18 سے متعلق دو تین اور درخواستیں ہیں انہیں اکٹھا کرلیں، اس پر اسپیشل سیکرٹری لاء نے کہا کہ اس کیس کو علیحدہ دیکھا جائے۔
اسپیشل سیکریٹری لاء نے دلائل دیے کہ کمیشن کے پاس اختیارات ہیں کہ اس کی ہدایت پر عمل نہ ہونے پر ایکشن لے سکتا ہے، الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق اس کیس پر کارروائی کی جائے، اس پر جو جوابدہ ہیں، میرٹ پر جواب دے دیں، میں کمیشن کی معاونت کر لوں گا۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اگر وزیر اعلی بھی الیکشن سے پہلے کوئی ایسی تقریر کریں جو حلقے پر اثرانداز ہو تو ٹرائل ہو گا جب کہ طلال چوہدری پیش ہونا چاہتے تھے، ان کے بھائی کا نوٹیفیکشن روکا ہوا ہے، ان کی سماعت 2 دسمبر کو ہے۔
سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن آپ کے دلائل پر مناسب آرڈر کر دے گا، وزیراعلی کے پی کو اگلی حاضری کے لئے استثنیٰ دے دیتے ہیں۔
بعد ازاں الیکشن کمیشن میں کیس کی سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر این اے 18 میں الیکشن مہم کے دوران عملے کو دھمکانے کا کیس ہے۔








Leave a Reply