فیض حمید کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق نے ان خبروں کو مسترد کر دیا جن میں کہا جا رہا تھا کہ ان کے مؤکل عمران خان کیخلاف سرکاری گواہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے ان دعوؤں کو ’’قیاس آرائی پر مبنی اور بے بنیاد‘‘ قرار دیا۔
دی نیوز کے سوالات کے جواب میں بیرسٹر میاں علی اشفاق کا کہنا تھا کہ میڈیا اور سیاسی حلقوں میں گردش کرنے والی ان اطلاعات میں ’’کوئی صداقت نہیں‘‘ جن میں کہا جا رہا ہے کہ فیض حمید عمران خان کیخلاف مقدمات میں سرکاری گواہ بننے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’یہ تمام خبریں مکمل طور پر بے بنیاد اور محض قیاس آرائی ہیں۔‘فیض حمید اور عمران خان کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ سے متعلق قیاس آرائیاں سرکاری سرپرستی میں بننے والا بیانیہ ہیں، جو 9؍ مئی کے واقعات کے بعد دہرایا جا رہا ہے۔ ان واقعات کے دوران عمران خان کی گرفتاری کے بعد بعض فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے تھے۔
یہ قیاس آرائیاں اس وقت مزید تقویت اختیار کر گئیں جب حال ہی میں فوجی عدالت نے فیض حمید کو 14 سال قید کی سزا سنائی۔
وفاقی کابینہ کے سینئر ارکان وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ متعدد بار یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ یہ پر تشدد واقعات عمران خان اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے درمیان ایک مربوط منصوبے کا نتیجہ تھے۔ تاہم، ان دعووں کے باوجود، فوج کے میڈیا ونگ آئی ایس پی آر نے تاحال اپنی کسی بریفنگ میں یہ نہیں کہا کہ عمران خان اور فیض حمید کے درمیان ایسا کوئی گٹھ جوڑ موجود تھا۔








Leave a Reply